وہ آواز جسے بھیڑیں پہچانتی ہیں
یسوع دروازہ ہے اور اچھا چرواہا بھی، جو اپنی بھیڑوں کو نام لے کر بلاتا ہے اور اپنی جان خوشی سے دیتا ہے۔ عید تجدید پر گھیر لیے جانے پر وہ کہتا ہے کہ اُس کی بھیڑیں اُس کے اور اُس کے باپ کے ہاتھ میں محفوظ ہیں، اور کوئی اُنہیں چھین نہیں سکتا۔
10 1میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں: جو بھیڑوں کے باڑے میں دروازے سے داخل نہیں ہوتا بلکہ کسی اَور راہ سے چڑھ جاتا ہے، وہ چور اور ڈاکو ہے۔ 2لیکن جو دروازے سے داخل ہوتا ہے، وہ بھیڑوں کا چرواہا ہے۔ 3دربان اُس کے لیے دروازہ کھولتا ہے، اور بھیڑیں اُس کی آواز سنتی ہیں۔ وہ اپنی بھیڑوں کو نام لے لے کر پکارتا ہے اور اُنہیں باہر لے جاتا ہے۔ 4جب وہ اپنی سب بھیڑوں کو باہر نکال لیتا ہے تو اُن کے آگے آگے چلتا ہے، اور بھیڑیں اُس کے پیچھے پیچھے چلتی ہیں کیونکہ وہ اُس کی آواز پہچانتی ہیں۔ 5وہ کسی اجنبی کے پیچھے ہرگز نہ چلیں گی بلکہ اُس سے بھاگیں گی، کیونکہ وہ اجنبیوں کی آواز نہیں پہچانتیں۔“
6یسوع نے اُن سے یہ تمثیل بیان کی، لیکن وہ نہ سمجھے کہ اُس کا کیا مطلب ہے۔
7پس یسوع نے پھر کہا، ”میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں، بھیڑوں کا دروازہ میں ہوں۔ 8جتنے مجھ سے پہلے آئے وہ سب چور اور ڈاکو ہیں، مگر بھیڑوں نے اُن کی نہ سنی۔ 9دروازہ میں ہوں؛ جو مجھ میں سے داخل ہو گا وہ نجات پائے گا، اور اندر باہر آتا جاتا اور چراگاہ پاتا رہے گا۔ 10چور صرف اِس لیے آتا ہے کہ چرائے، مار ڈالے اور ہلاک کرے۔ میں اِس لیے آیا کہ اُنہیں زندگی ملے، بلکہ کثرت کی زندگی ملے۔
11”اچھا چرواہا میں ہوں۔ اچھا چرواہا بھیڑوں کے لیے اپنی جان دے دیتا ہے۔ a a v11 یسوع چرواہے کا وہ لقب جو ہمارے باپ نے اسرائیل پر اوڑھ رکھا تھا اپنا بنا لیتے ہیں — وہ چرواہا جو وہ کرتا ہے جو کوئی مزدور نہ کرے گا: بھیڑوں کے لیے اپنی جان دے دینا۔ 12مزدور جو چرواہا نہیں اور بھیڑوں کا مالک نہیں، وہ بھیڑیے کو آتا دیکھ کر بھیڑوں کو چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے — اور بھیڑیا اُنہیں پکڑتا اور تتر بتر کر دیتا ہے۔ 13وہ آدمی اِس لیے بھاگ جاتا ہے کہ مزدور ہے اور بھیڑوں کی کچھ پروا نہیں کرتا۔ 14”اچھا چرواہا میں ہوں۔ میں اپنوں کو پہچانتا ہوں اور میرے اپنے مجھے پہچانتے ہیں، 15جیسے باپ مجھے پہچانتا ہے اور میں باپ کو پہچانتا ہوں؛ اور میں بھیڑوں کے لیے اپنی جان دے دیتا ہوں۔ 16میری اَور بھی بھیڑیں ہیں جو اِس باڑے کی نہیں؛ مجھے اُنہیں بھی لانا ضرور ہے، اور وہ میری آواز سنیں گی۔ پھر ایک ہی گلہ اور ایک ہی چرواہا ہو گا۔ 17باپ مجھ سے اِسی لیے محبت رکھتا ہے کہ میں اپنی جان دے دیتا ہوں تاکہ اُسے پھر لے لوں۔ 18کوئی اُسے مجھ سے چھینتا نہیں، بلکہ میں اُسے اپنی مرضی سے دیتا ہوں۔ مجھے اختیار ہے کہ اُسے دوں، اور اختیار ہے کہ اُسے پھر لے لوں۔ یہ حکم مجھے اپنے باپ سے ملا ہے۔“
19اِن باتوں سے یہودیوں میں پھر پھوٹ پڑ گئی۔ 20اُن میں سے بہتوں نے کہا، ”اِس میں بدروح ہے اور یہ بے خود ہے۔ اِس کی کیوں سنتے ہو؟“ 21مگر اَوروں نے کہا، ”یہ کسی بدروح والے کی باتیں نہیں۔ کیا کوئی بدروح اندھوں کی آنکھیں کھول سکتی ہے؟“
مخصوصیت کی عید
22پھر یروشلیم میں مخصوصیت کی عید آئی۔ سردیوں کا موسم تھا، b b v22 مخصوصیت کی عید (حنوکہ) ہیکل کی ازسرِنو مخصوصیت کی یاد میں منائی جاتی تھی؛ یہ سردیوں میں آتی ہے اور موسیٰ کی شریعت میں مقرر کی گئی عیدوں میں سے نہیں۔ 23اور یسوع ہیکل میں سلیمان کے برآمدے میں پھر رہے تھے۔ 24یہودیوں نے اُنہیں گھیر لیا اور کہا، ”تُو کب تک ہمیں تذبذب میں رکھے گا؟ اگر تُو مسیح ہے تو ہم سے صاف صاف کہہ دے۔“
25یسوع نے جواب دیا، ”میں نے تم سے کہہ دیا، مگر تم یقین نہیں کرتے۔ جو کام میں اپنے باپ کے نام سے کرتا ہوں وہی میری گواہی دیتے ہیں، 26لیکن تم یقین نہیں کرتے، کیونکہ تم میری بھیڑیں نہیں ہو۔ 27میری بھیڑیں میری آواز سنتی ہیں؛ میں اُنہیں پہچانتا ہوں، اور وہ میرے پیچھے چلتی ہیں۔ 28میں اُنہیں ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہوں، اور وہ ہرگز ہلاک نہ ہوں گی، اور کوئی اُنہیں میرے ہاتھ سے نہ چھینے گا۔ 29میرا باپ جس نے اُنہیں مجھے دیا ہے سب سے بڑا ہے؛ کوئی اُنہیں باپ کے ہاتھ سے نہیں چھین سکتا۔ 30میں اور باپ ایک ہیں۔“ c c v30 یسوع اپنے باپ کے ساتھ یکتائی کا دعویٰ کرتے ہیں — الگ الگ اقانیم جو ایک ہی ذات میں شریک ہیں۔ ہجوم اِسے کفر سمجھتا ہے اور پتھر اُٹھاتا ہے (آیت 33)۔
31یہودیوں نے پھر اُنہیں سنگسار کرنے کے لیے پتھر اُٹھائے۔
32یسوع نے کہا، ”میں نے تمہیں باپ کی طرف سے بہت سے اچھے کام دکھائے۔ اِن میں سے کس کام کے سبب تم مجھے سنگسار کرنے پر ہو؟“
33یہودیوں نے جواب دیا، ”ہم تجھے کسی اچھے کام کے سبب سنگسار نہیں کر رہے، بلکہ کفر کے سبب، کیونکہ تُو آدمی ہو کر اپنے آپ کو خُدا بناتا ہے۔“
34یسوع نے اُنہیں جواب دیا، ”کیا تمہاری شریعت میں یہ نہیں لکھا کہ ’میں نے کہا تم خُدا ہو‘؟ d d v34 یسوع زبور 82 کا حوالہ دیتے ہیں، جہاں اسرائیل کے قاضیوں کو ”خُدا“ کہا گیا کیونکہ خُدا کا کلام اُن پر نازل ہوا تھا — یہ اِس بات کا دعویٰ نہیں کہ بہت سے خُدا ہیں، بلکہ اُن ہی کے صحیفے سے دلیل ہے۔ 35اگر اُس نے اُنہیں ’خُدا‘ کہا جن پر میرے باپ کا کلام نازل ہوا — اور صحیفہ ٹوٹ نہیں سکتا — 36تو جسے باپ نے مخصوص کر کے دنیا میں بھیجا اُس کے بارے میں کیا؟ تم مجھ پر کفر کا الزام کیوں لگاتے ہو کہ میں نے کہا، ’میں ہمارے باپ کا بیٹا ہوں‘؟ 37اگر میں اپنے باپ کے کام نہیں کرتا تو میرا یقین نہ کرو۔ 38لیکن اگر کرتا ہوں تو خواہ تم میرا یقین نہ بھی کرو، اِن کاموں ہی کا یقین کرو، تاکہ تم جانو اور جانتے رہو کہ باپ مجھ میں ہے اور میں باپ میں۔“
39اُنہوں نے پھر اُنہیں پکڑنے کی کوشش کی، مگر وہ اُن کے ہاتھ سے نکل گئے۔
40پھر یسوع یردن کے پار اُس جگہ واپس چلے گئے جہاں یوحنا نے پہلے بپتسمہ دینا شروع کیا تھا، اور وہیں ٹھہرے۔ 41بہت سے لوگ اُن کے پاس آئے اور کہنے لگے، ”یوحنا نے تو کوئی نشان نہ دکھایا، مگر جو کچھ یوحنا نے اِس شخص کے بارے میں کہا وہ سب سچ تھا۔“ 42اور اُس جگہ بہتیرے اُس پر ایمان لائے۔