خاک سے شہزادوں کے دسترخوان تک
سوال یہ ہے کہ ہمارا باپ، اِتنی بلندی پر بیٹھا ہوا، اِتنی نیچے کیسے دیکھ لیتا ہے۔ جواب وہ ہے جو وہ جھک کر کرتا ہے: ایک مسکین کو راکھ کے ڈھیر سے اٹھا کر شہزادوں کے درمیان بٹھاتا ہے، اور بےاولاد عورت کو بچوں سے بھرا گھر دیتا ہے۔
113 1ہلّلویاہ! اے ہمارے باپ کے بندو، اُس کی حمد کرو؛ ہمارے باپ کے نام کی حمد کرو۔ 2ہمارے باپ کا نام مبارک ہو، اب سے لے کر ابدالآباد تک۔ 3سورج کے طلوع سے لے کر اُس کے غروب تک، ہمارے باپ کے نام کی حمد ہونی چاہیے۔ 4ہمارا باپ سب قوموں پر سربلند ہے، اور اُس کا جلال آسمانوں سے بھی بالاتر ہے۔ 5ہمارے باپ کی مانند کون ہے، جو عالمِ بالا پر تخت نشین ہے، 6جو جھک کر آسمان اور زمین پر نظر کرتا ہے؟ 7وہ غریب کو خاک سے اُٹھاتا ہے اور محتاج کو گھورے پر سے بلند کرتا ہے، 8تاکہ اُنہیں شہزادوں کے ساتھ، اپنی قوم کے شہزادوں کے ساتھ بٹھائے۔ 9وہ بے اولاد عورت کو اُس کے گھر میں بساتا ہے بچوں کی خوش و خرم ماں بنا کر۔ ہلّلویاہ!