میری مدد کہاں سے آتی ہے؟
زیارت کا گیت۔
ایک مسافر پہاڑوں کی طرف نظر اٹھاتا ہے، جہاں خطرہ بھی تھا اور عبادت گاہیں بھی، اور اپنی مدد کہیں اور پاتا ہے — اپنے باپ میں، آسمان اور زمین کے خالق میں، جسے کبھی اونگھ نہیں آتی۔ وعدہ استثنا کا نہیں بلکہ ہمراہی کا ہے: تیرا باہر جانا اور تیرا اندر آنا۔
121 1میں اپنی آنکھیں پہاڑوں کی طرف اٹھاتا ہوں—میری مدد کہاں سے آئے گی؟
2میری مدد میرے باپ سے آتی ہے، جو آسمان اور زمین کا خالق ہے۔
3وہ تیرے پاؤں کو ڈگمگانے نہ دے گا؛ تیرا نگہبان اونگھنے کا نہیں۔ 4دیکھ، اسرائیل کا نگہبان نہ اونگھے گا نہ سوئے گا۔
5تیرا باپ تیری نگہبانی کرتا ہے؛ تیرا باپ تیرے دہنے ہاتھ پر سایہ ہے۔ 6دن کو آفتاب تجھے نہ مارے گا، اور نہ رات کو ماہتاب۔
7تیرا باپ تجھے ہر بلا سے محفوظ رکھے گا؛ وہ تیری جان کی نگہبانی کرے گا۔ 8تیرا باپ تیرے آنے جانے کی نگہبانی کرے گا، اب سے ابد تک۔